Wednesday, 28 August 2013

Safari Park operation CCTV debunks claims of innocence

کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں 15اگست کو ڈی ایس پی سمیت دو پولیس افسران کی شہادت کا سبب بننے والے پولیس مقابلے کو جعلی اور متنازع قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس پولیس مقابلے میں گرفتار 9 ملزمان کو سی آئی اے کے سربراہ ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی جانب سے بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ جیو نیوز نے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مقابلے کی لمحہ بہ لمحہ فوٹیج حاصل کرلی ہے۔ مقابلے میں ہلاک اور گرفتار ملزمان بے گناہ قرار دیئے جارہے ہیں لیکن سی سی ٹی وی نے ان کی بے گناہی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔گلشن اقبال کے سفاری پارک میں 15 اگست کو لینڈ مافیا کے دہشت گردوں سے مقابلے میں ڈی ایس پی قاسم خان غوری سمیت دو پولیس افسران جاں بحق جبکہ دو ایس ایچ اوز سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوئے، کارروائی کے دوران تین دہشت گردی بھی مارے گئے۔ اس پولیس مقابلے کو روز اول سے ہی جعلی اور متنازع قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ جس پر تحقیقات کا عمل شروع ہوا تو ایمانداری کے حوالے سے شہرت پانے والے سندھ پولیس کے ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے ملزمان کی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔ لیکن یہ کیا؟؟ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک لسانی تنظیم اور پولیس کے ڈی آئی جی کی جانب سے بے گناہی کا سرٹیفکٹ پانے والے ملزمان کیا کر رہے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پولیس فورس پر باقائدہ منظم طریقے سے گھات لگا کر مورچہ بند فائرنگ کرنے والا ایک ملزم ضامن شاہ ہے جس نے رفاحی ادارے چھیپا ویلفیئر کی ایمبولنس پر بھی فائرنگ کی۔ مقابلے کیلئے ایسی تیاری تو شاید کبھی پولیس نے بھی نہیں کی ہوگی لیکن پھر بھی یہ دہشت گرد بے گناہ ٹھہرا۔ دوسرا ملزم امید علی چاچڑ ہے جو پولیس افسران پر حملے تیز کرنے کی ہدایات اور ملزمان کو تازہ دم رکھنے کے وسائل فراہم کر رہا ہے۔ اس فوٹیج میں دیکھئے جنگی طرز کے یہ مناظر عموماً کسی عسکری تربیت کے ادارے میں ہی دیکھے جاتے ہیں۔ کراچی میں پولیس کے خلاف یہ مہارت متعلقہ اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے ہی کافی ہے۔ اب پیش ہے کہانی گرفتار ملزمان کی، رنگے ہاتھوں گرفتار کئے گئے 9ملزمان میں سے 6سی سی ٹی وی فوٹیج میں پولیس اور رینجرز پر براہ راست فائرنگ کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ دہشت گردی کے اس واقعے کی انکوائری کرنے والے ڈی آئی جی پولیس فورس میں ایماندار مشہور ہیں لیکن واہ کیا ایمانداری کہ نہ جانے کس بنیاد پر اچھی اور بہترین شہرت کے حامل ڈی ایس پی کے خون ہی سے ناانصافی کرڈالی، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔ جیو نیوز کو حاصل کردہ اس فوٹیج کے بعد بھی اگر شک کی گنجائش باقی ہے تو پھر اداروں اور ملکی نظام کا اللہ ہی حافظ ہے۔

0 comments:

Post a Comment