کوئٹہ…زیارت میں قائد اعظم ریذیڈنسی کو دہشت گرد حملے میں تباہ ہوئے دو ماہ سے زائد عرصہ گزرگیا،مگر تین ماہ کے اندر اس قومی ورثہ کی حامل عمارت کی زسر نو تعمیر کے بلند بانگ دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے ،عمارت کی تعمیرتو کیا ،اس پر اب تک کام بھی شروع نہ کیاجاسکا۔یہ دعویٰ یا وعدہ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے قائد اعظم ریذیڈنسی کو 15جون کودہشت گردی کے واقعہ میں تباہ کئے جانے کے دو روز بعد زیارت اور پھر کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت میں کیاتھا۔ چودھری صاحب تو شاید اس دعوے یاوعدے کو بھول چکے ہیں،اس کے بعد اس قومی ورثہ سے جذباتی لگاؤ رکھنے والوں کو بہرحال ایک دلی تشفی ہوگئی تھی کہ چلو قائد سے منسوب اس یادگار کو دوبارہ سے تعمیر کردیاجائیگا اور اس کی تباہی سے ملکی تاریخ کو جو زخم لگا ہے وہ مکمل نہ سہی کسی حد تک بھرجائیگا۔ مگرحکومتی سطح پرقومی سطح کے مسائل سے جس طرح صرف نظر کیاجاتاہے اس کی مثال اس بات سے بھی سامنے آئی ہے کہ قومی تاریخ سے جڑی اس اہم عمارت سے جہاں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے آخری دنوں کی یادیں وابستہ ہیں اور جو زیارت شہر کا اثاثہ بھی ہے اس پر تو اب تک کام ہی شروع نہیں کیاجاسکا۔ کام شروع کیاجانا تو دور کی بات اب تک توعمارت کا تباہ شدہ ملبہ ہی اٹھایانہ جاسکا،جس سے بہرحال حکومت کی ترجیحات کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر اب یہ بات تو طے ہے کہ یہ عمارت تین ماہ میں تو ہرگز مکمل نہیں کی جاسکتی۔۔ اب اس پر چھ ماہ لگتے ہیں یا ایک سال،،لیکن اس عمارت کی تعمیر بہر حال قائد کی یادوں کو دوبارہ سے زندہ کرنے کے مترادف ہوگا۔
Wednesday, 28 August 2013
قومی یاد گار قائد اعظم ریذیڈنسی کا تعمیراتی کام اب تک شروع نہ ہوسکا
Posted on 13:26 by Unknown
Categories: News
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment