Wednesday, 28 August 2013

جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ نیسندھ یو نیورسٹیزترمیمی بل مسترد کر دیا

کراچی…سندھ یو نیورسٹیزترمیمی بل 2013 قانون بننے کے بعد صوبے کی کئی نامور جامعات کے وائس چانسلر،رجسٹرار اور اعلیٰ افسران تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ نے قانون کومسترد کر تے ہو ئے جامعات میں تقرری کا اختیار گورنر کے زیر انتظام رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔خاور خان کی رپورٹ قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی کی جانب سے سندھ یو نیو رسٹیز ترمیمی بل 2013 کی منظوری کے بعد کراچی یونی ورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کا ہنگامی اجلاس ہو ا۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر مطا ہر احمد شیخ کے مطابق اجلاس میں دو سو سے زیادہ اساتذہ نے شرکت کی اور قانون کو مکمل طور پر مسترد کردیا ۔ ڈاکٹر مطاہراحمد شیخ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو این ای ڈی یو نیورسٹی آف انجنیئرنگ میں سندھ کی جامعات کی اساتذہ تنظیموں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے،جس ? میں سندھ کی تیرہ جامعات کے وائس چانسلرزاور اساتذہ تنظیموں کے عہدے دار آیندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ ۔سندھ یو نیو رسٹیز ترمیمی بل 2013 کی منظوری کے بعد صوبے کی تمام جامعات میں وائس چانسلر ،رجسٹرار اور ڈائریکٹر فنانس سمیت اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرری کے اختیار ات گورنر سے لیکر وزیراعلیٰ کو تفویض کردیے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد ڈاوٴ یونیورسٹیز آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر مسعود حمید اور مہران یونیورسٹی آف انجنیئرنگ کے وائس چانسلرپروفیسر قدیر راجپوت سمیت کئی نامور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرزاور رجسٹرار تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کہتے ہیں کہ اساتذہ تنظیمیں اس قانون کو یونی ورسٹیز میں سیاسی اثر ورسوخ کے فروغ کی دستاویز قرار دے رہی ہیں۔

0 comments:

Post a Comment